میرپور جیل میں مبینہ کرپشن، قیدیوں سے بھاری رقوم کی وصولی اور منظم نیٹ ورک کے سنگین الزامات
27/10/2026میرپور جیل میں مبینہ کرپشن، قیدیوں سے بھاری رقوم کی وصولی اور منظم نیٹ ورک کے سنگین الزامات راجہ سلامت حسین کا جیل انتظامیہ کے خلاف اعلیٰ سطحی غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ، قیدیوں سے رقم وصول کرنے، موبائل فونز کے استعمال اور غیرقانونی مراعات فراہم کرنے کے دعوے میرپور (آواز نیوز): آزاد جموں و کشمیر کے ضلع میرپور کی جیل میں مبینہ بدعنوانی، قیدیوں کے مالی استحصال، غیرقانونی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ کشمیر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق قیدی راجہ سلامت حسین نے جیل انتظامیہ اور بعض متعلقہ افسران پر متعدد الزامات عائد کرتے ہوئے حکومت آزاد کشمیر سے فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ راجہ سلامت حسین نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک مبینہ جھوٹے مقدمے میں پانچ سال قید کاٹی، جس دوران انہیں جیل کے اندر قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک، مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ طور پر منظم انداز میں جاری غیرقانونی سرگرمیوں کا مشاہدہ ہوا۔ ان کے مطابق ابتدا میں زمین کے تنازع پر ایس ایچ او عرفان بھٹی نے مبینہ طور پر ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے اس معاملے پر آواز بلند کی اور پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کیا تو انہیں منشیات کے مقدمے میں بھی پھنسا کر جیل بھجوا دیا گیا۔ جیل میں 200 موبائل فونز اور قیدیوں سے مبینہ وصولیوں کا دعویٰ پریس کانفرنس کے دوران راجہ سلامت حسین نے دعویٰ کیا کہ جیل کے اندر تقریباً 200 موبائل فون استعمال ہو رہے ہیں اور موبائل فون استعمال کرنے کی سہولت کے عوض مبینہ طور پر فی قیدی 10 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ جیل میں آنے والے قیدیوں اور حوالاتیوں سے بستر فراہم کرنے کے نام پر پانچ ہزار روپے لیے جاتے ہیں، جبکہ کھانے پینے اور دیگر بنیادی سہولیات کے لیے بھی الگ رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ ان کے بقول بعض حوالاتیوں سے مبینہ طور پر کام بھی لیا جاتا ہے اور انہیں مختلف مدات میں مالی ادائیگیوں پر مجبور کیا جاتا ہے۔ رقم کے عوض قیدیوں کو گھروں میں رات گزارنے کی اجازت دینے کا الزام راجہ سلامت حسین نے جیل کے بی کلاس اور وی آئی پی بلاکس میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بعض مخصوص افراد، جن میں ان کے دعوے کے مطابق منشیات کے کاروبار سے وابستہ عناصر بھی شامل ہیں، غیرمعمولی سہولیات حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ سنگین دعویٰ بھی کیا کہ بعض قیدیوں کو مبینہ طور پر رقم کے عوض رات گزارنے کے لیے جیل سے باہر ان کے گھروں تک جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے جیل کے داخلی و خارجی ریکارڈ، قیدیوں کی نقل و حرکت، ڈیوٹی روسٹرز، سی سی ٹی وی فوٹیج اور متعلقہ مالی معاملات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ اعلیٰ افسران کے کردار اور انکوائری رپورٹ غائب ہونے کے الزامات راجہ سلامت حسین نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس سے قبل چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کو بھی جیل میں مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے تحریری شکایت ارسال کی تھی، تاہم ان کے بقول جیل کے معاملات سے متعلق تیار کردہ ایک انکوائری رپورٹ مبینہ طور پر غائب کر دی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مبینہ بے ضابطگیوں میں نچلی سطح کے عملے سے لے کر اعلیٰ افسران تک ایک منظم نیٹ ورک ملوث ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی سمیت متعلقہ ذمہ داران کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ راجہ سلامت حسین نے ڈی آئی مرزا ارشاد کی جیل کے اندر رہائش اور ان کے بھائی کو جیل کے باہر دکان دیے جانے کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ ان معاملات کی قانونی حیثیت اور متعلقہ قواعد کے مطابق جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ راجہ حسیب اور سپرنٹنڈنٹ فضل عباسی پر بھی مبینہ بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔ مبینہ کرپشن کی ویڈیوز بنانے پر 14 افراد سے حملہ کروانے کا دعویٰ راجہ سلامت حسین نے مزید دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے جیل کے اندر مبینہ بدعنوانی اور غیرقانونی سرگرمیوں کی ویڈیوز بنائیں تو ان پر 14 افراد کے ذریعے حملہ کروایا گیا۔ ان کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کو منظرعام پر لانے کی کوششوں کے بعد انہیں دباؤ اور خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ مبینہ حملے، ویڈیوز کے مواد، قیدیوں سے مالی وصولیوں، موبائل فونز کے استعمال اور انکوائری رپورٹ کی عدم دستیابی کی الگ الگ تحقیقات کی جائیں۔ جان کو خطرات کا اظہار، حکومت سے تحفظ اور تحقیقات کا مطالبہ پریس کانفرنس کے اختتام پر راجہ سلامت حسین نے اپنی جان و سلامتی کے حوالے سے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں اس پریس کانفرنس کے بعد کوئی نقصان پہنچا تو وہ اس کی ذمہ داری ان افراد پر عائد کریں گے جنہیں انہوں نے اپنے الزامات میں نامزد کیا ہے۔ انہوں نے حکومت آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری، محکمہ داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جیل کے معاملات کی تحقیقات ایسے آزاد اور غیرجانبدار افسر یا ادارے سے کروائی جائیں جس کا متعلقہ جیل انتظامیہ سے براہِ راست تعلق نہ ہو۔ اہم وضاحت: یہ تمام الزامات راجہ سلامت حسین کی پریس کانفرنس میں کیے گئے دعووں پر مبنی ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ نامزد افسران اور متعلقہ جیل انتظامیہ کا مؤقف بھی اس خبر کی تیاری تک دستیاب نہیں تھا۔ الزامات کی حقیقت کا تعین غیرجانبدارانہ تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ: آواز نیوز | AWAZ WITH AMER KHAN
