کوٹلی میں پانچ ماہ سے موبائل انٹرنیٹ بند، حکومتی دعوے بے اثر، ہزاروں شہری ڈیجیٹل دنیا سے کٹ گئے، عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز
1/11/2026کوٹلی میں پانچ ماہ سے موبائل انٹرنیٹ بند، حکومتی دعوے بے اثر، ہزاروں شہری ڈیجیٹل دنیا سے کٹ گئے، عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز! کوٹلی (محمد وسیم شاد): آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں موبائل انٹرنیٹ کی مسلسل بندش پانچ ماہ کا طویل عرصہ عبور کر گئی، مگر حکومتی وعدوں، وزراء کے اعلانات اور بحالی کی یقین دہانیوں کے باوجود شہری تاحال موبائل انٹرنیٹ جیسی بنیادی مواصلاتی سہولت سے محروم ہیں۔ طویل بندش نے حکومتی کارکردگی، انتظامی فیصلوں اور عوامی مشکلات کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ضلع کوٹلی کے شہریوں کے لیے موبائل انٹرنیٹ کی بندش محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ان کے روزگار، تعلیم، کاروبار اور روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کرنے والا ایک سنگین بحران بن چکی ہے۔ پانچ ماہ سے جاری اس صورتحال نے خصوصاً نوجوانوں، طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والوں اور بیرونِ ملک مقیم عزیز و اقارب سے رابطے کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کوٹلی کے عوام کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ جب آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں تو کوٹلی کے شہریوں کو مسلسل اس سہولت سے محروم رکھنے کا کیا جواز ہے؟ کیا کوٹلی کے عوام کے حقوق دوسرے اضلاع کے شہریوں سے مختلف ہیں؟ علاقے کے بیشتر شہری مہنگے فائبر آپٹک کنکشن اور لینڈ لائن انٹرنیٹ کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ کم آمدنی والے خاندانوں، طلبہ اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے موبائل انٹرنیٹ ہی تعلیم، معلومات اور روزگار تک رسائی کا سب سے آسان اور سستا ذریعہ تھا، جو مسلسل بندش کے باعث ان کی دسترس سے باہر ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر اور متعلقہ وزراء کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے متعدد اعلانات اور یقین دہانیوں کے باوجود کوٹلی میں موبائل انٹرنیٹ کی بحالی کے حوالے سے کوئی واضح اور قابلِ عمل ٹائم لائن سامنے نہیں آ سکی۔ آخر حکومت کب تک محض اعلانات اور یقین دہانیوں سے کام چلاتی رہے گی؟ پانچ ماہ کا عرصہ کسی بھی انتظامی مسئلے کے حل کے لیے معمولی مدت نہیں۔ اگر موبائل انٹرنیٹ کی بندش ناگزیر ہے تو حکومت عوام کے سامنے اس کی وجوہات، قانونی بنیاد اور بحالی کا واضح لائحہ عمل کیوں پیش نہیں کرتی؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت آزاد کشمیر کوٹلی کے عوام کی مشکلات کا فوری نوٹس لے اور موبائل انٹرنیٹ سروس بلا تاخیر بحال کرے۔ اگر کسی مخصوص سکیورٹی یا انتظامی وجہ سے پابندی برقرار رکھی گئی ہے تو اس کی شفاف وضاحت کی جائے اور غیر ضروری پابندیوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ پانچ ماہ کی خاموشی، پانچ ماہ کے وعدے اور پانچ ماہ کی محرومی — کوٹلی کے عوام اب مزید اعلانات نہیں، عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، تجارت، روزگار اور بنیادی مواصلات کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ اس سہولت کی طویل بندش سے پیدا ہونے والے مسائل کو نظرانداز کرنا عوامی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ کوٹلی میں انٹرنیٹ کب بند ہوا تھا، بلکہ سوال یہ ہے کہ پانچ ماہ گزرنے کے باوجود اسے بحال کیوں نہیں کیا جا سکا، اور اس طویل محرومی کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ رپورٹ: AWAZ With Amer Khan
اصل ماخذ