13ویں آئینی ترمیم کے تحفظ کے لیے ہر صورت کھڑا رہوں گا، راجہ فاروق حیدر خان کا دوٹوک اعلان
27/10/202613ویں آئینی ترمیم کے تحفظ کے لیے ہر صورت کھڑا رہوں گا، راجہ فاروق حیدر خان کا دوٹوک اعلان میری جماعت یا موجودہ حکومت نام نہاد 16ویں آئینی ترمیم کے سامنے سر بھی جھکا دے تو اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر مظفرآباد (آواز نیوز) — 27 اکتوبر 2026ء آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے 13ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنا دوٹوک مؤقف سامنے لاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974ء کی 13ویں ترمیم کے ساتھ کھڑے رہیں گے، چاہے ان کی اپنی سیاسی جماعت یا موجودہ حکومت نام نہاد 16ویں آئینی ترمیم کے سامنے سر جھکا دے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے اکاؤنٹ @farooq_pm سے جاری بیان میں راجہ فاروق حیدر خان نے کہا: "میں آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974ء کی 13ویں ترمیم کے ساتھ کھڑا رہوں گا، خواہ میری جماعت یا میری موجودہ حکومت نام نہاد 16ویں ترمیم کے سامنے اپنے سر ہی کیوں نہ جھکا دے۔" سابق وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر میں مجوزہ 16ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سیاسی بحث جاری ہے۔ راجہ فاروق حیدر خان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ 13ویں آئینی ترمیم کی حمایت کے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور اس معاملے میں اپنی جماعت یا حکومت کے ممکنہ مختلف فیصلے کے باوجود پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے اس واضح اعلان نے مجوزہ آئینی ترامیم سے متعلق جاری سیاسی بحث میں ایک اہم مؤقف کو سامنے لایا ہے۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں راجہ فاروق حیدر خان نے 16ویں ترمیم کو "نام نہاد" قرار دیا ہے۔ رپورٹ: آواز نیوز | AWAZ WITH AMER KHAN
