قصور میں لرزہ خیز سانحہ، کھیر کھانے کے بعد ماں، باپ اور تین بیٹے جاں بحق، پانچ اموات کا معمہ برقرار
30/10/2026قصور میں لرزہ خیز سانحہ، کھیر کھانے کے بعد ماں، باپ اور تین بیٹے جاں بحق، پانچ اموات کا معمہ برقرار ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی تین روز کے دوران یکے بعد دیگرے موت، ہسپتال جانے کے بجائے دم درود پر انحصار، کھانے میں چھپکلی گرنے کا شبہ مگر اصل وجہ تاحال غیر واضح قصور (آواز نیوز): پنجاب کے ضلع قصور کے قصبہ کنگن پور کے نواحی گاؤں محمود خانیکے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی پراسرار حالات میں ہلاکت نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں ماں، باپ اور ان کے تین بیٹے شامل ہیں، جو مبینہ طور پر گھر میں تیار کردہ کھیر کھانے کے بعد بیمار ہوئے اور بعد ازاں لاہور کے ہسپتال میں دورانِ علاج یکے بعد دیگرے دم توڑ گئے۔ تفصیلات کے مطابق 22 اکتوبر کی صبح 55 سالہ کاشتکار قاسم علی کی اہلیہ 52 سالہ حسنہ بی بی نے ناشتے کے لیے کھیر تیار کی، جسے انہوں نے خود بھی کھایا اور اپنے شوہر سمیت تینوں بیٹوں، 28 سالہ آصف علی، 25 سالہ ناظم علی اور 15 سالہ امانت علی کو بھی کھلایا۔ ناشتے کے بعد قاسم علی اپنے تینوں بیٹوں کے ہمراہ معمول کے مطابق کھیتوں میں کام کرنے چلے گئے، تاہم دوپہر 12 بجے کے قریب خاندان کے افراد کی طبیعت یکے بعد دیگرے خراب ہونا شروع ہو گئی۔ مقامی پولیس اور رشتہ داروں کے مطابق اہلِ خانہ نے فوری طبی امداد حاصل کرنے کے بجائے گاؤں کے ایک روحانی معالج سے رجوع کیا، جہاں مسلسل تین روز تک دم درود کے ذریعے علاج کی کوشش کی جاتی رہی۔ پولیس کو دیے گئے بیانات میں قاسم علی اور ان کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ ماضی میں بھی ان کے خاندان کے افراد بخار، سردرد یا پیٹ کی خرابی جیسی بیماریوں کے لیے اسی روحانی معالج سے رجوع کرتے رہے تھے۔ تاہم اس مرتبہ پانچوں افراد کی حالت مسلسل بگڑتی چلی گئی، جس کے بعد 25 اکتوبر کو رشتہ دار انہیں کنگن پور ہسپتال لے گئے۔ مریضوں کی تشویشناک حالت کے پیش نظر ڈاکٹروں نے انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی، جہاں سے مبینہ زہریلے اثرات کے باعث انہیں جنرل ہسپتال لاہور ریفر کر دیا گیا۔ 25 اکتوبر کی شام پانچوں مریضوں کو لاہور جنرل ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔ اسی رات 25 سالہ ناظم علی دم توڑ گیا، جبکہ دیگر افراد کو انتہائی نگہداشت میں منتقل کر کے علاج شروع کیا گیا۔ اگلے روز 26 اکتوبر کو 28 سالہ آصف علی اور 15 سالہ امانت علی بھی زندگی کی بازی ہار گئے۔ 27 اکتوبر کو خاندان کے سربراہ قاسم علی بھی دورانِ علاج انتقال کر گئے۔ المیے کی انتہا اس وقت ہوئی جب 28 اکتوبر کو گاؤں میں قاسم علی اور ان کے دو بیٹوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی کہ لاہور جنرل ہسپتال سے خاندان کی آخری زندہ بچ جانے والی رکن، 52 سالہ حسنہ بی بی کی وفات کی اطلاع بھی موصول ہو گئی۔ پانچ افراد کی ہلاکت، چھپکلی کا زہر یا کوئی اور وجہ؟ اس المناک واقعے کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آخر ایک ہی گھر کے پانچ افراد کی موت کا سبب کیا بنا؟ کھیر میں چھپکلی گرنے یا کسی زہریلے مادے کی آمیزش سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اموات کی حتمی وجہ ثابت کرنے والی فرانزک یا لیبارٹری رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ محض کھانے میں چھپکلی کی موجودگی کو پانچ اموات کی مصدقہ وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل حقائق کا تعین طبی اور فرانزک تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت سے گاؤں محمود خانیکے میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ رشتہ دار اور اہلِ علاقہ شدید صدمے سے دوچار ہیں، جبکہ اس افسوسناک واقعے نے بروقت طبی امداد کی اہمیت کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔ AWAZ NEWS | www.awaznews.live
