تیرھویں آئینی ترمیم کل کارنامہ تھی، آج غلطی کیسے بن گئی؟ پارٹی میں سوال اٹھانا جرم نہیں، سردار فاروق سکندر
30/10/2026تیرھویں آئینی ترمیم کل کارنامہ تھی، آج غلطی کیسے بن گئی؟ پارٹی میں سوال اٹھانا جرم نہیں، سردار فاروق سکندر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے رہنما سردار فاروق سکندر کی پارٹی قیادت پر کڑی تنقید، جماعتی کارکنوں کو دھمکی آمیز پیغامات دینے کے بجائے اعتماد میں لینے کا مطالبہ آزاد کشمیر: پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے رہنما سردار فاروق سکندر نے جماعت کے اندر اختلافِ رائے پر پابندیوں، تیرھویں آئینی ترمیم سے متعلق بدلتے ہوئے مؤقف اور کارکنوں کو مبینہ طور پر سخت کارروائی کی دھمکیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس آئینی ترمیم کو ماضی میں جماعت اپنی بڑی کامیابی اور تاریخی کارنامہ قرار دیتی رہی، آج اسی ترمیم پر سوال اٹھانا یا تحفظات ظاہر کرنا جرم کیوں سمجھا جا رہا ہے؟ اپنے ایک بیان میں سردار فاروق سکندر نے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب سرخ انقلاب اور سبز انقلاب کے نعرے بڑے جوش و خروش سے لگائے جاتے تھے، لیکن آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اختلافِ رائے کو بھی مخصوص ریڈ لائنز کے تابع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہی رویہ جماعت کے اندر پیدا ہونے والی کئی خرابیوں کی بنیادی وجہ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جماعتی کارکن تیرھویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں تو بعض جماعتی عہدیداروں کی جانب سے سخت کارروائی کے پیغامات سامنے آتے ہیں اور انہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ صرف جماعتی فورم پر بات کریں اور ریاست کے خلاف گفتگو سے گریز کریں۔ سردار فاروق سکندر نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ جماعتی فورم کہاں ہے جہاں کارکن اپنی بات رکھ سکیں؟ اگر کارکنوں کو کھل کر اظہارِ خیال کا موقع نہیں دیا جا سکتا تو کم از کم ایک شکایات بکس ہی رکھ دیا جائے تاکہ وہ اپنی شکایات تحریری طور پر قیادت تک پہنچا سکیں۔ انہوں نے ماضی کے سیاسی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دوران اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے بعض وزرا کو حکومت سے الگ کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم اس معاملے میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس وقت ترجیحات کچھ اور تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حیرت انگیز طور پر جماعتی ٹکٹ کے خلاف انتخابات میں حصہ لینے والے افراد نہ صرف اہم شخصیات کی محفلوں کا حصہ بنے بلکہ جماعتی اور حکومتی عہدوں سے بھی مستفید ہوتے رہے، جبکہ جماعت کی کامیابی کے لیے قربانیاں دینے والے کارکنوں کو اختلافِ رائے پر سخت پیغامات دیے جا رہے ہیں۔ سردار فاروق سکندر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو نہ جنت کا ٹکٹ دیتی ہیں اور نہ ہی تنخواہ یا پنشن فراہم کرتی ہیں۔ کارکن اپنی وابستگی، نظریے اور محنت کی بنیاد پر جماعت کی کامیابی کے لیے کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا اقتدار میں آنے کے بعد ان کے ساتھ غیر ضروری سختی اور آمرانہ رویہ اختیار کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی جماعت کے اندر مارشل لا جیسا ماحول پیدا کرنے کے بجائے جمہوری روایات کو فروغ دینا چاہیے۔ جماعتی قیادت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ اجلاس بلائے، کارکنوں کو اعتماد میں لے، ان کے تحفظات سنے اور اپنا مؤقف بھی ان کے سامنے رکھے۔ سردار فاروق سکندر نے خبردار کیا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان خود جماعت کو پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ کی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنے اور جماعت کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریڈ لائن کسی فرد کی خوشامد، خواہش یا محدود اختیارات کے تحفظ کو نہیں بلکہ جماعت کے اجتماعی مفاد کو بنایا جانا چاہیے۔ تیرھویں آئینی ترمیم سے متعلق مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ترمیم کو برسوں تک ایک تاریخی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، آج اسے غلطی سمجھنے کا تاثر دیا جا رہا ہے۔ اس ترمیم کے حوالے سے کارکنوں کے تحفظات کو قومی سلامتی سے جوڑ دینا بھی حیران کن طرزِ عمل ہے۔ سردار فاروق سکندر نے سوال کیا کہ کیا جمہوریت اور سیاسی جماعت کے اندر سوال اٹھانا جرم ہے؟ انہوں نے جماعتی قیادت کو مشورہ دیا کہ اپنے سیاسی پیمانے اور اصول اتنی جلدی تبدیل نہ کیے جائیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کے بجائے جماعتی اتحاد، کارکنوں کے اعتماد اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے۔ سردار فاروق سکندر نے زور دیا کہ جماعت کی اصل طاقت اس کے مخلص کارکن ہیں اور ان کی آواز دبانے کے بجائے انہیں فیصلہ سازی میں شریک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
