کوٹلی کے عوام پانچ ماہ سے انٹرنیٹ سے محروم، حکومت بے حس، منتخب نمائندوں کی خاموشی شرمناک!
28/10/2026کوٹلی کے عوام پانچ ماہ سے انٹرنیٹ سے محروم، حکومت بے حس، منتخب نمائندوں کی خاموشی شرمناک! عوام ڈیجیٹل قید میں، حکومتی دعوے کھوکھلے، عوامی نمائندگی سوالیہ نشان بن گئی؛ آخر کوٹلی کے شہریوں کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ کوٹلی (آواز نیوز خصوصی رپورٹ): آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں موبائل انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کو پانچ ماہ ہونے کو ہیں، مگر حکومت کی بے حسی اور منتخب عوامی نمائندوں کی خاموشی نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پانچ ماہ کا عرصہ گزرنے کو ہے، لیکن نہ حکومت کوئی واضح جواب دینے کو تیار دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی کوٹلی سے منتخب ہونے والے نمائندے عوام کو اس مسئلے کے حل کی کوئی ٹھوس یقین دہانی کرا سکے ہیں۔ آخر کوٹلی کے عوام کا قصور کیا ہے؟ کیا کوٹلی آزاد کشمیر کا حصہ نہیں؟ کیا یہاں کے شہریوں کو جدید مواصلاتی سہولیات حاصل کرنے کا حق نہیں؟ موبائل انٹرنیٹ کی بندش نے طلبہ، تاجروں، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والوں، ملازمت پیشہ افراد اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، لیکن کوٹلی کے شہری آج بھی بنیادی انٹرنیٹ سہولت کی بحالی کے منتظر ہیں۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عوام کے ووٹوں سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والے نمائندوں کی جانب سے اس اہم مسئلے پر مؤثر اور دوٹوک آواز سنائی نہیں دے رہی۔ انتخابات کے دنوں میں ترقی، خوشحالی اور عوامی حقوق کے بلند بانگ دعوے کرنے والے نمائندے آج کہاں ہیں؟ کیا عوامی نمائندگی صرف ووٹ لینے، پروٹوکول حاصل کرنے اور اقتدار کے مزے لوٹنے کا نام ہے؟ اگر منتخب نمائندے پانچ ماہ میں ایک بنیادی عوامی مسئلہ حل نہیں کروا سکتے تو ان کی نمائندگی کا فائدہ کیا ہے؟ حکومت کو بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ آخر کوٹلی میں موبائل انٹرنیٹ کی بحالی میں کون سی رکاوٹ حائل ہے؟ اگر بندش سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ہے تو عوام کو اس کی واضح وضاحت اور بحالی کا قابلِ عمل شیڈول کیوں نہیں دیا جا رہا؟ یہ معاملہ محض انٹرنیٹ کی سہولت کا نہیں بلکہ عوامی حقوق، تعلیم، روزگار، معاشی سرگرمیوں اور حکومتی جواب دہی کا ہے۔ پانچ ماہ کی بندش حکومتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جبکہ منتخب نمائندوں کی مسلسل خاموشی عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کر رہی ہے۔ حکومتِ آزاد کشمیر، متعلقہ اداروں اور کوٹلی کے منتخب نمائندوں سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر موبائل انٹرنیٹ بحال کیا جائے یا عوام کو بندش کی وجوہات اور بحالی کی حتمی تاریخ سے آگاہ کیا جائے۔ کوٹلی کے عوام کو مزید وعدے، بہانے اور خاموشی نہیں، اپنا بنیادی حق چاہیے! سوال صرف ایک ہے: پانچ ماہ سے کوٹلی کا انٹرنیٹ بند ہے، آخر حکومت کب جاگے گی اور عوامی نمائندوں کی زبان کب کھلے گی؟ رپورٹ: آواز نیوز | AWAZ WITH AMER KHAN
