AZAD KASHMIR · PAKISTAN · WORLD
ایڈیٹر لاگ اِن
AWAZ NEWS — AWAZ WITH AMER KHAN
AWAZ WITH AMER KHAN

آپ کی آواز، ہماری ذمہ داری

بریکنگ نیوز
مکمل خبرآواز وِد عامر خان
تمام خبروں پر واپسآزاد کشمیر

کشمیر جل رہا ہے، حکومت سو رہی ہے؛ حالات کو نظرانداز کیا گیا تو کشمیر ہاتھ سے نکل سکتا ہے، مولانا فضل الرحمان کا انتباہ

28/10/2026کشمیر جل رہا ہے، حکومت سو رہی ہے؛ حالات کو نظرانداز کیا گیا تو کشمیر ہاتھ سے نکل سکتا ہے، مولانا فضل الرحمان کا انتباہ

کشمیر جل رہا ہے، حکومت سو رہی ہے؛ حالات کو نظرانداز کیا گیا تو کشمیر ہاتھ سے نکل سکتا ہے، مولانا فضل الرحمان کا انتباہ اسلام آباد (آواز نیوز): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران آزاد جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج اور حکومتی طرزِعمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کشمیری عوام کے مطالبات اور تحفظات کو مسلسل نظرانداز کرنا سنگین سیاسی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں زیادہ تر پاکستان کے داخلی سیاسی معاملات پر گفتگو کی، تاہم آزاد کشمیر کی صورتحال پر ان کے مختصر مگر سخت ریمارکس نے خطے میں جاری کشیدگی اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا: "کشمیر جل رہا ہے، پروا نہیں اس بات کی۔ لوگ دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں، یہاں حکومت سوئی ہوئی ہے، حکومت کو پتہ ہی نہیں ان چیزوں کا۔ بیٹھے رہے ہیں، اور بیٹھے رہے ہیں تو یہ بات آخر کہاں جائے گی؟ بالآخر بات یہاں تک جائے گی کہ کشمیر آپ کا حصہ نہیں رہے گا۔ یہ جو باہر آپ نے بینر لگائے ہوئے ہیں، یہ یہی رہ جائیں گے۔" ان کے اس بیان کو آزاد کشمیر میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مصالحتی کوششیں کیوں ناکام ہوئیں؟ اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان کو حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرنے کی دعوت دی تھی، جسے انہوں نے قبول بھی کیا تھا۔ تاہم یہ کوشش عملی پیش رفت نہ کر سکی۔ مولانا فضل الرحمان کے آزاد کشمیر نہ جانے کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں، جبکہ انہیں وہاں جانے سے روکے جانے کے امکان کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ کشمیری عوام کے ساتھ مذاکرات اور اعتماد سازی ناگزیر مولانا فضل الرحمان کے بیان نے ایک مرتبہ پھر آزاد کشمیر میں عوامی مطالبات، احتجاجی تحریک اور حکومتی ردِعمل کے حوالے سے سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ کشمیری عوام کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور طاقت یا محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، افہام و تفہیم اور اعتماد سازی کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جائے۔ آزاد کشمیر کی حساس سیاسی حیثیت کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ عوامی بے چینی میں مزید اضافہ نہ ہو۔ مولانا فضل الرحمان کے انتباہ کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ کشمیری عوام کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے ساتھ بامعنی مکالمہ کیا جائے، کیونکہ مسلسل سیاسی بے توجہی مستقبل میں بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ AWAZ NEWS | AWAZ WITH AMER KHAN

ویوز لوڈ ہو رہے ہیں…