راولاکوٹ بس ٹرمینل واقعے کی تفصیلات سامنے آگئیں، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک اکرم کی ایس ایس پی کو تحریری رپورٹ
3/11/2026راولاکوٹ بس ٹرمینل واقعے کی تفصیلات سامنے آگئیں، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک اکرم کی ایس ایس پی کو تحریری رپورٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ناکے پر جج سے پوچھ گچھ، گاڑی کی تلاشی اور مبینہ بدسلوکی کا معاملہ؛ رپورٹ میں پوچھ گچھ کرنے والے شخص کا نام بھی سامنے آگیا راولاکوٹ (آواز ود عامر خان): آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں چند روز قبل بس ٹرمینل کے قریب عوامی ایکشن کمیٹی کے ناکے پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک اکرم کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک اکرم کی جانب سے 30 اکتوبر 2026 کو سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس راولاکوٹ کے نام ارسال کردہ تحریری رپورٹ میں 28 اکتوبر کو پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جج ملک اکرم اپنی سرکاری گاڑی نمبر MAGA-681 AJK میں سفر کر رہے تھے کہ راولاکوٹ بس ٹرمینل کے قریب قائم ناکے پر موجود افراد نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔ اس دوران گاڑی کی تلاشی اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ تحریری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناکے پر موجود افراد نے جج ملک اکرم سے ان کی شناخت اور سفر سے متعلق سوالات کیے۔ جج کی جانب سے اپنا تعارف کروانے کے باوجود انہیں مزید پوچھ گچھ اور غیر مناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے دوران ایک شخص نے خود کو پوچھ گچھ کرنے والے ذمہ دار کے طور پر پیش کیا۔ تحریری بیان میں اس شخص کا نام عمران اشتیاق درج ہے، جس کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور سوالات کی تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ جج ملک اکرم نے اپنے تحریری بیان میں ناکے پر موجود افراد کے طرزِ عمل، گاڑی کی تلاشی اور پیش آنے والی صورتِ حال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ واقعے کے دوران جج ملک اکرم نے اپنی شناخت واضح کی، تاہم اس کے باوجود ان سے مختلف سوالات کیے گئے۔ تحریری بیان میں ناکے پر موجود افراد کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ اور رویے کا بھی ذکر موجود ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جج ملک اکرم نے واقعے کو محض زبانی شکایت تک محدود رکھنے کے بجائے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس راولاکوٹ کو باقاعدہ تحریری طور پر آگاہ کیا ہے۔ دستاویز کے اختتام پر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ رپورٹ کی نقول متعلقہ عدالتی و انتظامی حکام کو ارسال کرنے کا ذکر موجود ہے۔ اس واقعے کے بعد اہم سوالات سامنے آئے ہیں کہ کسی غیر سرکاری ناکے پر گاڑیوں کی تلاشی اور شہریوں سے پوچھ گچھ کس قانونی اختیار کے تحت کی جا رہی تھی، اور کیا ایسے اقدامات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دائرۂ اختیار میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں؟ تاہم تحریری رپورٹ میں بیان کردہ الزامات اور واقعات جج ملک اکرم کا مؤقف ہیں۔ متعلقہ افراد کا جواب اور پولیس کی جانب سے کسی ممکنہ قانونی کارروائی کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ آواز ود عامر خان — www.awaznews.live ادارتی نوٹ: خبر فراہم کردہ دو صفحات پر مشتمل تحریری رپورٹ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں درج مؤقف کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت کے بجائے متعلقہ جج کے تحریری بیان کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔
