AZAD KASHMIR · PAKISTAN · WORLD
ایڈیٹر لاگ اِن
AWAZ NEWS — AWAZ WITH AMER KHAN
AWAZ WITH AMER KHAN

آپ کی آواز، ہماری ذمہ داری

بریکنگ نیوز
مکمل خبرآواز وِد عامر خان
تمام خبروں پر واپسکالم

مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام اور حکمرانوں کی شاہانہ زندگی۔۔۔

29/10/2026مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام اور حکمرانوں کی شاہانہ زندگی۔۔۔

مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام اور حکمرانوں کی شاہانہ زندگی۔۔۔ سید عابد حسین شاہ غریب کی آہ، مڈل کلاس کی بے بسی اور حکمرانوں کی جواب دہی اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت عطا فرمائے، انہیں عوام کا درد سمجھنے اور ملک و قوم کے ساتھ انصاف کرنے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین! پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو یا بجلی کے بھاری بل، آٹے، چینی، گھی، دالوں، سبزیوں، دودھ اور دیگر اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ہر طرف عام آدمی مشکلات کے پہاڑ تلے دبا ہوا نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک عام شہری کے لیے عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ایک طرف غریب آدمی اپنے بچوں کے لیے روٹی، کپڑا، تعلیم اور علاج کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے، تو دوسری طرف اس کی آمدنی مہینے کے پہلے ہی چند دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ تنخواہ ملنے سے پہلے ہی قرضوں، بلوں اور اخراجات کی فہرست میں الجھ جاتا ہے۔ کسی کو مکان کا کرایہ ادا کرنا ہے، کسی کو بچوں کی اسکول فیس جمع کروانی ہے، کسی کو بیمار والدین کی دوائیاں خریدنی ہیں اور کسی کو بجلی، گیس اور پانی کے بل ادا کرنے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ایک محدود آمدنی رکھنے والا شخص آخر کتنی جگہ سے اپنے اخراجات پورے کرے؟ وہ کس چیز پر سمجھوتہ کرے؟ بچوں کی تعلیم پر، علاج پر، خوراک پر یا اپنی بنیادی ضروریات پر؟ایک طرف عوام کی مشکلات، دوسری طرف حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات عوام کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایک مزدور دن بھر سخت دھوپ اور گرمی میں محنت کرنے کے باوجود اتنا نہیں کما پاتا کہ اپنے گھر کا چولہا آسانی سے جلا سکے۔ ایک سفید پوش شخص اپنی عزتِ نفس کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا، مگر اندر ہی اندر پریشانیوں کا بوجھ اٹھائے زندگی گزارتا ہے۔اس کے برعکس جب حکمرانوں کے شاہانہ پروٹوکول، بڑی بڑی گاڑیوں کے قافلے، سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال، غیر ضروری دوروں، مہنگی تقریبات اور مراعات کی خبریں سامنے آتی ہیں تو عوام کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر یہ دو پاکستان کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ ایک پاکستان ان لوگوں کا ہے جن کے لیے سرکاری وسائل اور آسائشیں میسر ہیں، اور دوسرا ان لوگوں کا جو اپنے بچوں کے لیے دودھ خریدنے سے پہلے بھی کئی بار سوچتے ہیں۔حکمرانی صرف اقتدار، عہدے، پروٹوکول اور مراعات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم عوام ہی کی امانت ہے۔ اس امانت کا تقاضا ہے کہ اسے قومی مفاد، عوامی فلاح، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں پر خرچ کیا جائے، نہ کہ غیر ضروری نمود و نمائش اور شاہانہ طرزِ زندگی پر۔اگر ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے تو کفایت شعاری کا آغاز بھی اوپر سے ہونا چاہیے۔ حکمران طبقہ خود سادگی اختیار کرے، غیر ضروری اخراجات کم کرے اور عوام کو بھی عملی طور پر دکھائے کہ قومی مشکل میں سب برابر کے شریک ہیں۔ عوام سے قربانی مانگنے سے پہلے صاحبانِ اقتدار کو اپنی مراعات اور اخراجات کا جائزہ لینا چاہیے۔بجلی کے بل اور بے بس انسان کی سسکیاں۔بجلی کے بل آج بے شمار گھرانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ ایک عام خاندان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ بل ادا کرے یا گھر کا راشن خریدے۔ گرمیوں میں پنکھا چلانے اور سردیوں میں بنیادی ضروریات پوری کرنے کے اخراجات بھی کئی گھرانوں کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔جب ایک غریب آدمی دن رات محنت کرنے کے باوجود اپنے بل ادا نہ کر سکے، جب اسے بجلی منقطع ہونے کا خوف ستائے، جب بچوں کی فیس اور گھر کے راشن کے درمیان انتخاب کرنا پڑے تو اس کی ذہنی اذیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ معاشی دباؤ اور مالی پریشانیوں کے باعث بعض افراد انتہائی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، اور بعض اوقات خودکشی جیسے المناک واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ ہر ایسے واقعے کے پیچھے مختلف عوامل ہو سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقت ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ کسی بھی معاشرے میں انسان کو اس قدر بے سہارا نہیں ہونا چاہیے کہ اسے زندگی ہی بوجھ محسوس ہونے لگے۔کیا عوام کی جان، عزت اور سکون ریاست کی ذمہ داری نہیں؟ کیا حکومت کا فرض نہیں کہ ایسے حالات پیدا کرے جہاں ایک محنت کش شخص اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکے اور مشکل وقت میں اسے مدد اور سہارا میسر ہو؟ ریاست کی کامیابی صرف بلند عمارتوں، بڑی شاہراہوں اور معاشی اعداد و شمار سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے بھی ناپی جاتی ہے کہ اس کے عام شہری کتنے محفوظ، مطمئن اور خوش حال ہیں۔مہنگائی صرف اعداد و شمار نہیں، انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے۔مہنگائی کو محض چند فیصد اضافے یا معاشی رپورٹوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے اثرات ایک ماں کے خالی برتن، ایک باپ کی پریشان آنکھوں، ایک طالب علم کی ادھوری تعلیم اور ایک بیمار شخص کی نہ خریدی جا سکنے والی دوا میں نظر آتے ہیں۔جب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی آمدنی محدود اور اخراجات مقرر ہوتے ہیں۔ امیر طبقہ شاید اپنے طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلی سے حالات کا مقابلہ کر لے، لیکن غریب اور متوسط طبقے کے لیے چند سو یا چند ہزار روپے کا اضافی خرچ بھی پورے مہینے کا بجٹ بگاڑ سکتا ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف قانون پر عمل درآمد یقینی بنائے، کم آمدنی والے خاندانوں کو حقیقی ریلیف فراہم کرے اور بجلی و توانائی کے شعبے میں ایسے اقدامات کرے جن سے عام صارف پر غیر ضروری بوجھ کم ہو۔ محض اعلانات، وعدوں اور بیانات سے خالی پیٹ نہیں بھرتے۔حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا۔اقتدار عارضی ہے، عہدے بدل جاتے ہیں، حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں، لیکن انسان کے اعمال اور اس کے فیصلوں کے اثرات تاریخ میں باقی رہتے ہیں۔ایک جمہوری نظام میں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے فیصلوں، پالیسیوں، اخراجات اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا حساب دینا چاہیے۔ اسی طرح اسلامی تعلیمات بھی عدل، امانت، حقوق العباد اور جواب دہی پر زور دیتی ہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور بھی ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ جن لوگوں کو اختیار اور وسائل دیے گئے ہیں، ان پر ذمہ داری بھی زیادہ عائد ہوتی ہے۔ اگر کسی کے فیصلوں سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہو تو اس کا جائزہ لینا، غلطیوں کی اصلاح کرنا اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی یقینی بنانا ضروری ہے۔حکمرانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عوام کی آہیں، محرومیاں اور شکایات معمولی باتیں نہیں۔ عوام کو ریلیف دینا کوئی احسان نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار حکومت کا فرض ہے۔اب وقت ہے عملی اقدامات کا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ: حکمرانوں، وزرا اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے غیر ضروری اخراجات اور مراعات میں کمی کی جائے۔سرکاری گاڑیوں، غیر ضروری پروٹوکول، مہنگے دوروں اور نمائشی تقریبات کے اخراجات پر مؤثر نگرانی کی جائے۔بجلی کے بلوں اور توانائی کی قیمتوں میں عام صارف کی استطاعت کو مدنظر رکھا جائے۔ آٹا، گھی، چینی، دالیں، دودھ اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش مناسب قیمتوں پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے امدادی پروگرام شفاف بنائے جائیں تاکہ مستحق افراد تک حقیقی مدد پہنچ سکے۔نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو سہولتیں فراہم کی جائیں۔صحت اور تعلیم کو عام آدمی کی پہنچ میں لایا جائے تاکہ غربت کی وجہ سے کسی بچے کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ حکومتی اخراجات، عوامی وسائل کے استعمال اور معاشی فیصلوں میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔یہ اقدامات محض سیاسی نعرے نہیں ہونے چاہییں، بلکہ ان کے نتائج عام شہری کی زندگی میں نظر آنے چاہییں۔آخری بات: عوام کو ریلیف دیں، ان کی مشکلات میں اضافہ نہ کریں۔ہم کسی حکمران کے مخالف نہیں، ہم ناانصافی، بے حسی، غیر ضروری شاہانہ اخراجات اور عوامی مشکلات سے لاتعلقی کے مخالف ہیں۔ حکمران اگر عوام کے حقیقی مسائل حل کریں، مہنگائی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، اپنے اخراجات میں سادگی اختیار کریں اور عام شہری کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دیں تو یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ یاد رکھیے، ایک بھوکے انسان کے لیے بڑے بڑے دعوے بے معنی ہیں۔ ایک پریشان باپ کے لیے سیاسی تقریر سے زیادہ اہم اپنے بچوں کے لیے روٹی کا انتظام ہے۔ ایک بیمار ماں کے لیے بلند و بانگ وعدوں سے زیادہ ضروری دوا کی دستیابی ہے، اور ایک محنت کش کے لیے اصل خوش خبری یہ ہے کہ اس کی آمدنی میں اس قدر گنجائش ہو کہ وہ اپنے گھر کے اخراجات عزت کے ساتھ پورے کر سکے۔اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے، انہیں عوام کا درد محسوس کرنے، انصاف کرنے، قومی وسائل کی امانت داری سے حفاظت کرنے اور غریبوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور معاشی پریشانیوں سے نجات دے اور ہر مجبور و بے سہارا انسان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین! کیونکہ حکمرانی کا اصل حسن شاہانہ پروٹوکول میں نہیں، بلکہ عوام کے چہروں پر مسکراہٹ لانے، ان کے گھروں کے چولہے جلانے اور انہیں عزت و سکون کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دینے میں ہے۔۔۔۔۔.

ویوز لوڈ ہو رہے ہیں…